Best Dialogue Contest
May 12, 2006 355 Views

Best Dialogue Contest

مقابلہ برائے بہترین مکالمہ بازی

مکالمہ کیا ہے؟
مکالمہ (Dialogue) دو یا دو سے زاأد افراد کے درمیان باہمی گفتگو کو کہتے ہیں۔ تاہم عام حالات میں دو افراد کے درمیان گفتگو کو مکالمہ کہا جاتا ہے۔
مقتدرہ قومی زبان کے تحت شائع ہونے والی لغت میں اس کی وضاحت اس طرح سے کی گئی ہے،
” باہمی نقطہ اتفاق پر پہنچنے کے لیے کسی موضوع پر آزادانہ تبادلہ خیالات ”

اجتماعات (Gatherings) میں، خواہ وہ عمر رسیدہ افراد کی ہویا نوجوانوں کی، مکالمہ بازی کو خاص حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ اجتماعات مکالمہ بازی کے بغیر بے مزاح اور بے رونق ہوتے ہیں خواہ وہ مکالمات پرُ مزاح ہوں یا سنجیدگی پر مبنی ہوں۔

ایک ایسا ہی اجتماع بے کار چوک، Foreign Chowkاور اس طرح کے کئی منفردناموں سے جانا جاتا ہے۔ اس چوک کو خصوصی افراد کی مکالمہ بازی کی وجہ سے خاص شہرت حاصل ہے جس کے لیے دوسرے چوک حسرت ہی کرتے رہے ہیں تاہم یہ شہرت انہیں حاصل نہ ہوسکی ۔ اس چوک نے جن افراد کی مکالمہ بازی کی وجہ سے شہرت کی بلندیوں کو چھوا ہے ، ان میںقبلہ بڑے انگریز وسیم،سلمان عرف سلو کراچی والا،مصطفیٰ عرف سلوانگلستان والا، نوید،زبیر اور ایسے کئی دوسرے مرکزی افراد شامل ہیں۔ یہ تمام افراد من جانب قدرت خاص صلاحیتوں کے مالک ہیں اور یہ صلاحیتں اب دوسروں میں ناپید ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ چوک کے دوسرے افراد ان سے حسد کرتے ہیں اور بارہا ان حاسدوں کے ہاتھوں ان نایاب مکالمہ بازوں کی عزتوں کے فالودے بنے۔ تاہم انتہائی ڈھٹائی سے تمام بے عزتی کو برداشت کرنے کا مادہ ان میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ وسیم ایک ایسا نام ، جو مکالمات کی ادائیگی میں اپنا مخصوص طرز بیان رکھتے ہیں ۔ قبلہ بڑے انگریز وسیم مکالمات کی ادائیگی میں اپنا ایک منفرد انداز اپنائے ہوئے ہیں ۔ اپنے انتہائی فرسودہ اور نا سمجھ میں آنے والے مکالمات کی وجہ سے وسیم کو چوک کی جان سمجھا جاتا ہے اور یہی مکالمہ بازی ان کی شہرت کا سبب بھی ہے ۔

وہ عادت ہی کیا جو جلدی چھوٹ جائے
اس لیے تو ہم کامیڈی کرنا نہیں چھوڑتے

مندرجہ بالا شعر یقینا آپ قارئین کی سمجھ میں نہیں آیا ہوگا۔ صرف شعر ہی نہیں وسیم سے اس طرح کے بہت سے مکالمات اورغیر یقینی کہانیاں منسوب ہیں ۔ یہاں وسیم کی انگریزی زبان کے لیے خدمات(جنہیں بعد میں انگریزی زبان کے خلاف جہاد بھی کہا گیا) ذکر نہ کرنا انگریزی زبان پر احسان عظیم ہوگا۔ اس لیے ان خدمات کا ذکر پھر کبھی سہی۔ وسیم کے علاوہ سلو (کراچی والے) نے بھی اپنا لوہا منوانے میں کو ئی کثر نہیں چھوڑی اور اس کے مکالمات کو بھی خوب پذیرئی ملی۔ وہیں نوید، زبیر اور کہیں کہیں ناصر نے بھی اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا۔

”خدا کی قسم! اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا تو احساس محرومی کا شکار ہوجاتا ۔”

یہ مشہور زمانہ مکالمہ جانی پہچانی، خوبرو شخصیت سے منسوب ہے۔ جی ہاں!اوبی جی۔ اپنے مخصوص انداز گفتگو اور پہناوے سے اوبی جی نے بھی اپنی شخصیت کو ہمیشہ شہرت کی بلندیوں پر رکھا ہے۔

اس مقابلہ میں بھی ہم نے کچھ ایسے مکالمات کو چنا ہے جو کہ تازہ ہونے کے ساتھ ساتھ منفرد و انوکھے ہیں۔قارئین سے گزارش ہے کہ وہ ان مکالمات کو بالکل بھی سنجیدہ نہ لیں کیونکہ ایسی صورت میں دماغی حالت کو شدید نقصان کا خطرہ ہے۔ میڈیکل سائنس کی ایک تحقیق کے مطابق ان مکالمات کو سنجیدگی سے لینا اتنا ہی نقصان دہ ہوسکتا ہے جتنا کہ ان کو غیر سنجیدہ لینا۔ لیکن ڈاکٹرز کی رائے یہی ہے کہ ان مکالمات کو غیر سنجیدہ لیا جائے۔ تاہم یہاں سبق آموز یا سنجیدہ مکالمات سے اجتناب کرتے ہوئے صرف ان مکالمات کو شامل کیا گیا ہے جنہوں نے جہالت کی تمام حدوں کو عبور کرتے ہوئے سامعین کی دھجیاں اڑا دیںاور انہیں ایک عجیب اذیت سے دوچار کیا۔

مکالمہ نمبر 1: ” نہیں یار !ہم لوگ پلاسٹک والے شیشے لگاأیں گے۔” (سلو کراچی والا)
مکالمہ نمبر 2: ”یار یہ شارجہ کپ پاکستان میں ہوتا ہے نا!” (قبلہ بڑے انگریز وسیم)
مکالمہ نمبر 3: ”پنڈی میں ہم لوگ مینار پاکستان گئے۔۔۔۔۔” (ناصر)
مکالمہ نمبر 4: ”شاہستہ جی ذرا آہستہ!” (سلوانگلستان والا)

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مکالمہ باز نے اپنی جس سوچ کے تحت بھی ان فرسودہ خیالات یا سوالات کا اظہار کیا ہے ان تمام میں ایک بات یکساں تھی اور وہ تھی ماحول میں سناٹا ۔ مندرجہ بالا مکالمات میں مقابلہ ایک مشکل مرحلہ ہے اور کسی ایک مکالمہ کو سراہنا بلاشبہ دوسروں کے ساتھ نا انصافی کے مترادف ہوگا۔ لیکن مقابلوں میں ہار جیت ضروری ہے اسلئے قارئین سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اپنے طور پر اس کا فیصلہ کریں۔ بہترین مکالمہ باز کو اس کے اپنے مکالمات سے اذیت دی جائے گی۔ تاکہ اسے دوسروں کے دکھ کا احساس ہوسکے۔

Next Jashan-e-Azadi

0 Comments

No Comments Yet!

You can be first to comment this post!

Leave a Reply