Jashan-e-Azadi

Jashan-e-Azadi

آزادی کے دن کا دوسرا پہر تھا۔ موسم خوشگوار، بارش کے بعد مٹی سے بھینی بھینی خوشبو اٹھ رہی تھی۔ مصروفیات زندگی اور جشن آزادی ایک ساتھ رواں دواں تھے۔ راقم کا مصروفیات زندگی کے تحت لکشمی چوک کی ہر دلعزیز شخصیت روک زبیر کی سسرالی گلی سے گزر ہوا۔ اعلی حضرت کے سسرال کے جب نزدیک پہنچا تو حیرت اور پریشانی کے باعث قدم اٹھتے نہ تھے۔ وطن سے محبت سلامت رہے لیکن شادی والے گھر میں صرف آزادی کے نغمے بجائے جارہے تھے۔ آج جب کہ ملک اپنی آزادی کے 66 برس مکمل کر چکا اسی خوشی کے دن زبیر بھی رشتہ ازدواج میں بندھ رہا ہے۔

قارئین، کہتے ہیں کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں، کیا اس جوڑے میں بھی دونوں پارٹیاں ٹائٹ ہیں جو ایک طرف تو آزادی کا برملا اظہار ہو رہا ہے جبکہ دوسری جانب سناٹا ہے؟ گویا بات بہت سخت ہے لیکن غور طلب امر یہ ہے کہ زبیر کے سسرال میں شادی والے دن صرف آزادی کے نغمے بجائے جانا وطن عزیز کے ساتھ محبت کے علاوہ کس سے آزادی کا اظہار ہے؟ راقم کی تمام تر نیک خواہشات اس نوبیہاتا جوڑے کے ساتھ ہیں اور خوشحال مستقبل کے لیے دعا گو ہے۔

Previous Best Dialogue Contest
Next Khussa Shoes – Symbol of the Traditional Culture of Sindh

0 Comments

No Comments Yet!

You can be first to comment this post!

Leave a Reply