People: A review

People: A review

لوگ: ایک تجزیہ

یہ آپ کو ہر جگہ نظر آئیں گے۔ خواہ کتنی دور ہی کیوں نہ ہوں، دن ہو یا رات، آپ جہاں کہیں نظر ڈالیں ۔۔۔لوگ۔

یہ آپ کو لمحے بھر کا سکون بھی فراہم نہیں کریں گے۔لمبے، ناٹے، موٹے، دبلے۔ یہ ہر جگہ ہیں۔

آخر ان کا مقصد کیا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر انہوں نے میرے لیے کیا کیا ہے؟

کچھ کہیں گے، ”ٹی۔وی لوگوں نے بنایا”، یا ”میاں!انٹرنیٹ کے بارے میں کیا خیال ہے؟”، یا ”موٹر کار”۔۔وغیرہ وغیرہ۔یہ سب بلاشبہ قیمتی ایجادات ہیں۔

کچھ لوگ پبلک ٹرانسپورٹ کو بطور دلیل پیش کریں گے۔ لیکن کیا واقعی کوئی پبلک ٹرانسپورٹ کو پسند کرتا ہے؟

”کمپیوٹر”، ”ٹیلیفون”، اور ”مائیکرویو اوون” بھی کچھ گراں قدر ایجادات ہیں جو لوگوں نے بنائی ہیں۔

کچھ شاید ”اسٹار پلس” بھی کہیں گے۔تو ان سے بڑھ کر بے وقوف کوئی نہیں۔

صرف چند لوگوں کی کچھ نایاب ایجادات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تمام لوگوں کے مول بڑھ گئے۔ ایک عام آدمی آخر کرتا کیا ہے سوائے بہت سا کھانے، بہت سا سونے، اور بہت سا بولنے کے علاوہ ؟ کچھ خاص نہیں۔ میں کہتا ہوں، کچھ بھی نہیں۔

اب آپ مجھے غلط مت سمجھئے گا۔ میں کوئی تعصبی نہیں۔ میرے کچھ اچھے دوست لوگ ہیں۔ میں نے کافی اچھے لوگ دیکھے ہیں۔ لیکن اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ تمام لوگ اچھے ہیں۔

شاید آپ لوگ میری قابلیت کے بارے میں سوچ رہے ہوں گے کہ میں آخر لوگوں پر تجزیہ کیوں کر رہا ہوں۔ سو، لوگوں کے سماجی برتاؤ کے مطالعہ، خاص طور پر ان کے آغاز، تنظیم، ادارے، اور انسانی معاشرے کی نشوونما کے مطالعے کو عمرانیات (Sociology)کہتے ہیں۔

میرے پیچھے دیوار پر عمرانیات کی ایک ڈگری ٹنگی ہوئی ہے۔ ڈگری سے میرا مطلب ”سینڈوچ” ہے۔ ”دیوار پر ٹنگی ہوئی” سے میرا مطلب ایک پلیٹ ہے جو میرے سامنے پڑی ہے۔

بہر حال،میں کچھ شواہد پیش کرتا ہوں:

کچھ عرصہ پہلے تک لوگ باقاعدگی سے نو (9) بجے خبرنامہ دیکھتے تھے۔

عاطف اسلم نے ایک ہی گانا متعدد بار گایا صرف اس لیے کہ لوگ اسے سن رہے تھے۔

علی حیدر کے بھی فین ہیں۔۔۔ لوگ۔

بوبی دیول اب تک فلموں میں کا م کررہا ہے کیونکہ یہ لوگ ہی ہیں جو اس کی فلمیں دیکھ رہے ہیں۔

لوگ طارق عزیز کو دیکھتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ وہ عقلمند ہے۔

اگر لوگ نہ ہوتے تو ہمیں بہت سی سیاسی جماعتوں کو برداشت نہ کرنا پڑتا۔

آبادی کا مسئلہ بھی تن تنہا لوگوں کی وجہ سے ہی ہے۔

لوگوں کی وجہ سے ہمیش ریشمیا نے ان گنت البم بنائے، کیونکہ یہ لوگ ہی انہیں خریدتے ہیں۔ ہمیش ریشمیا “لوگ” کی ایک نایاب قسم ہے۔ موصوف نےگلوکاری کے بعد صف اول کے اداکاروں کو “کام” سکھانے کی غرض سے فلمی دنیا میں ہیروگیری میں قدم رکھا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر لوگوں نے انہیں دھول چٹا دی اور بری طرح ناکام ہونے کے بعد ہمیش ریشمیا نہ گھر کے نہ گھاٹ کے رہے۔

لوگ بوڑھے ہونے پر بضد ہیں اور ہمیں اپنے فضول قصے کہانیوں سے بور کرتے رہتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ کہانیاں جھوٹی ہیں، لیکن ہم اسے ثابت نہیں کر سکتے کیونکہ اس وقت موجود تمام لوگ جہان فانی سے رحلت فرما چکے ہیں۔

آپ جانتے ہیں مجھے لوگوں سے زیادہ کیا پسند ہے؟ پہاڑی تیتر۔ میں مذاق نہیں کر رہا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ تمام پرندوں میں بالکل منفرد ہیں؟ واقعی نہیں !سردیوں میں ان کے جسموں پر سفید پنکھ ہوتے ہیں، جبکہ موسم بہار میں ان کے جسموں پر رنگ برنگے پنکھ اگ جاتے ہیں۔ ان کے پاؤں ، جن پر عام طور پر پنکھ پھیلے ہوتے ہیں، سردیوں میں خاصی مقدار میں ہوتے ہیں اور سردی کے جوتوں کا کام دیتے ہیں۔

پہاڑی تیتر، جنگلی مرغ کے خاندان سے تعلق رکھنے والے تین اقسام کے پرندوں کا یکساں نام ہے۔ اس نوع کے تیتر قطب شمال کے پہاڑوں اور میدانوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی ایک اور خاصیت یہ ہے کہ وہ اپنے قطب کے گرد رہتے ہیں اور ہجرت پسند نہیں کرتے۔ غالباً، یہ قطب شمالی کے ان چند پرندوں میں سے ہیں جو وطن تبدیل نہیں کرتے۔

اب تک اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ نر پہاڑی تیتر کسی پہاڑ کے سرہانے بیٹھ کر بین الاقوامی سیاست پر بحث و مباحثہ کرتے ہیں، جیسا کہ لوگ کرتے ہیں۔ اور نہ ہی اس بات کی کوئی اطلاعات ہیں کہ مادہ پہاڑی تیتر اسٹار پلس دیکھتی ہیں، جیسا کہ بہت سے لوگ دیکھتے ہیں اور دیکھتے رہیں گے۔

اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ پہاڑی تیتر، لوگوں سے بہتر ہیں۔

Previous Midnight, Creative Mind Overdrive and Azaan!
Next Something new and fresh...

0 Comments

No Comments Yet!

You can be first to comment this post!

Leave a Reply