Something new and fresh…

Something new and fresh…

کچھ نئی تازی۔۔۔

  • پہیلیاں بوجھنا ازل سے ہی انسان کا شوق رہا ہے۔ اور اگر ان پہیلیوں کا تعلق بے کار/ Foreign چوک سے ہو تو وہ مزید دلچسپ ہوجاتی ہیں۔ جیسا کہ آج کل چوک پر پہیلیاں پوچھنے اور بوجھنے کا دور دورا ہے۔ چوک کا ہر رکن نت نئی اور منفرد پہیلیوں کی تلاش میں رہتا ہے تاکہ وہ اپنی پہیلی سے چوک کے دیگر اراکین کو سوچنے پر مجبور کردے اور ان کی داد وصول کرسکے۔ قابل تعجب امر یہ ہے کہ یہاں بھی چوک کی World Famous شخصیات سر فہرست ہیں۔ یہاں ان شخصیات کے نام لینے کی ضرورت نہیں۔ عقل کا استعمال کرنے میں ان اراکین کی جانب سے ایسی پیش رفت کسی معجزے سے کم نہیں۔ اپنی انتہائی فرسودہ پہیلیوں کے ذریعے ان شخصیات نے اپنی شہرت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ کئی دفعہ یہ بھی دیکھنے میں آیا کے موجود سامعین نے پہیلی مکمل ہونے سے پہلے ہی انہیں خاموش کرادیا۔ لیکن یہ اشخاص اتم ڈھٹائی سے بنا اپنی عزت کی پرواہ کیے اپنی کاوشوں میں مزید فرسودگی پیدا کرتے رہے۔ جہاں پہیلیاں پوچھنے میں ان اشخاص نے فرسودگی کا بے دریغ استعمال کیا وہیں پہیلیوں کے جوابات بھی ایسے دیے کہ پوچھنے والا کسی ساکت بت کا نمونہ پیش کرنے لگا۔ جو نہ رو سکتا اور نہ ہی ہنس سکتا۔ فرسودگی کی دولت سے مالا مال یہ شخصیات یقینا چوک کا انمول اثاثہ ہیں۔ بہر حال یہ مضمون ان نایاب شخصیات کی پہیلیوں کی تفصیل سے متحمل نہیں ہوسکتا چنانچہ قارئین کی جسمانی وذہنی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے چند معقول پہیلیاں درج ذیل ہیں۔ لیکن، قارئین سے معذرت کے ساتھ، ہماری بھر پور کوششوں کے باوجود ہم ایسی پہیلیاں ڈھونڈنے/پوچھنے میں ناکام ہیں جن کا تعلق چوک کی ان World Famous شخصیات سے نہ ہو۔ پہیلیاں کچھ یوں ہیں:
  • محترمہ سلو صاحب (براہ کرم بیک وقت محترمہ اور صاحب کے استعمال سے پریشان نہ ہوں ، پہیلی یہ نہیں، بات صرف اتنی ہے کہ ہمارے پاس محترمہ صاحب کو عزت دینے کی کوئی دوسری تدبیر نہیں) آنکھیں بند کر کے آئینہ کیوں دیکھتے ہیں؟
    قبلہ بڑے انگریز حضرت وسیم صاحب الٹا کب لٹکتے ہیں؟
    ماہر محتسب اور کاروباری دنیا کے بے تاج بادشاہ محترم نوید صاحب کے گودام میں ٹنگی ہوئی تین وال کلاکس تین مختلف اوقات کیوں بتا تی ہیں؟ (اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق سہ پہر کے تین بجے ہیں تو ایک گھڑی دن کے بارہ (12 pm)، دوسری سہ پہر کے تین (3 pm) جبکہ تیسری گھڑی شام کے چھ (6 pm) کا وقت کیوں بتاتی ہے؟

مندرجہ بالا پہیلیوں کو بوجھنے کے لیے ضروری یہ ہے کہ ان شخصیات کی دماغی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی طرح سوچا جائے۔ جو نہ صرف ایک مشکل بلکہ انتہائی اذیت ناک عمل ہوسکتا ہے۔ اس لیے قارئین سے درخواست ہے کہ وہ اس حد تک جانے سے پہلے اپنے معالج سے ضرور رابطہ کرلیں۔ ان احتیاطی تدابیر کے بعد قارئین سے گذارش ہے کہ وہ اپنے جوابات ہمیں بذریعہ برقی خطوط یعنی E-mails پر بھیج سکتے ہیں۔ ہر شخص کی جانب سے صرف ایک جواب قابل قبول ہوگا اور جو آخری جواب اس شخص کی طرف سے موصول ہوگا اسے ہی قابل غور لایا جائے گا۔ صحیح جوابات ارسال کرنے والے خواتین و حضرات کا نام اگلے شمارے میں شائع کیا جائے گا۔ ادارے کا فیصلہ حتمی ہوگا۔ جیتنے والوں کو، خواہ وہ چاہیں یا نہ چاہیں، ہر صورت اگلی سطور میں درج انعامات سے مستفید ہونا پڑے گا۔جیتنے والوں کو ماہر انگریزی زبان حضرت وسیم صاحب کی انگریزی زبان پر لکھی گئی کتب کے مجموعہ کے مطالعے، ماہر محتسب محترم نوید صاحب کی حساب کتاب پر انمول تصانیف کے مطالعے اور محترمہ سلو صاحب کے ساتھ خیالی پلاؤ کے عشائیہ/ظہرانہ کے مواقع ملیں گے۔

Previous People: A review
Next Alright Tumblr! Here I am!

0 Comments

No Comments Yet!

You can be first to comment this post!

Leave a Reply