Alif the Unseen – Book Review in Urdu

Alif the Unseen – Book Review in Urdu

ٹیکنالوجی اور قصے کا مجموعہ۔ پہلی نظر میں تو یہ ایسا لگا کہ میری پسند کے حساب سے ایک آئیڈیل کہانی ہے۔ لیکن افسوس کہ ویسی کہانی نہیں نکلی، جیسی میں نے پہلے ہی ذہن میں سوچ رکھی تھی۔

شروعات کافی سست ہے، جس میں اہم کردار کو متعارف کیا جاتا ہے جو کہ ایک عام سا لڑکا اپنی ہی دنیا میں مست مولا بنا پھرتا رہتا ہے۔ جو اصل دنیا سے تنگ آیا ہوا ہے اور انسانوں پر سے اس کا بھروسہ اٹھ چکا ہے۔ اس میں اس کے زبردست باپ کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے، جس نے اس کی ماں اور اس کو معمولی خرچہ اٹھانے کے سہارے پر چھوڑا ہوتا ہے۔ دوسری شادی کر کے آخر اس نے کچھ سالوں کے بعد واپس اپنی پہلی بیوی کے گھر اپنا بسیرا کیا ہوتا ہے۔ کہانی پھر آگے بڑھتی ہے جہاں یہ واضح ہوتا ہے کہ اس نے چھپ کر ایک عربی عورت سے شادی کرلی ہوتی ہے جو ایک امیر خاندان سے ہوتی ہے۔ یہاں تک تو میرا دھیان نہیں پکڑ پائی کہانی، کیونکہ سیدھی سی بات ہے، مجھے میلو ڈرامہ ہی چاہیے تو پھر اس سے بہتر ہے میں کوئی دیسی ڈرامہ دیکھ لوں۔ دل تو کیا کہ وہ حصے چھوڑ کر آگے پڑھنا شروع کردوں لیکن میں نے کہا نہیں! میں یہ پوری کہانی پڑھوںگی۔ کیونکہ کم از کم دس سال تو ہو ہی گئے ہیں کہ میں نے کوئي بھی افسانوی کتاب پڑھی ہو۔ اسی لیے دنیا ادھر کی ادھر ہوجائے، میں نے اس کتاب کو شروع سے لے کر آخر تک ایک ایک لفظ پڑھ کر ہی چھوڑنا تھا۔ بس پھر کیا تھا اور مجھے یہ ضرور کہنا ہے کہ بے شک آپ پڑھنے والے متفق نہ ہوں میری بات سے مگر مجھے پورا اپنے آپ پر فخر ہے۔ کیونکہ آخر کار میں نے پوری کتاب پڑھ لی! اب اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ میں نے اتنے سالوں میں کچھ بھی نہیں پڑھا۔ چھوٹی چھوٹی کہانیاں تو میں نے اکثر ہی ادھر ادھر پڑھی ہیں، لیکن زیادہ میں نے معلوماتی، حقائق وغیرہ پر مضامین اور کتابیں تو بے تحاشا پڑھی ہیں۔ کوئي بات نہیں، ایسا اکثر ہو جاتا ہے جب انسان اپنی عمر سے بڑی حرکتیں کرنا شروع کر دے۔ جیسا میری صورتحال میں میری تو عمر بس پانچ سال ہے، جیسا کہ اصل زندگی میں سب مجھے جانتے ہی ہیں۔ کچھ خوش ہیں اور کچھ تنگ ہیں اس بات ہے۔

Alif the Unseen, G. Willow Wilson, Fiction

کتاب کی طرف ذرا واپس چلتے ہیں، جس میں اصل کردار کے تعارف کی بعد کہانی بڑھتی ہے اصل مدعہ پر۔ یعنی کہ ایک کتاب جو اس کو ملتی ہے، جس کا نام ہوتا ہے “الف یوم و الیوم”، جو کہ “الف لیلی” کا بالکل الٹ روپ ہوتا ہے، یعنی کہ ایک ہزار ایک دن۔ اس کتاب کے بارے میں یہ بتایا جاتا ہے ہمیں کہ اس کو ایک جن نے لکھی تھی اور انسانوں میں لے کر آیا تھا۔

اسے کتابی شکل ایک فرانسیسی بندے نے دی ہوتی ہے، جس کے لیے الف جو کہ مرکزی کردار ہوتا ہے اور یہ اس کا آن لائن اسکرین نام بھی ہوتا ہے، ایک مہم پر دیگر لوگوں کے ساتھ نکلتا ہے۔ اس کی پڑوسن، ایک انگریز طالبعلم جو مسلمان بن چکی ہوتی ہے۔ اور شاید آپ اندازہ لگا چکے ہونگے، ایک جن! حالانکہ شروعات میں الف کو ذرا بھی یقین نہیں آتا اس بات پر، لیکن جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی رہتی ہے تو آخر کار نہ صرف اس کے لیے بلکہ اس کے ساتھیوں کے لیے بھی یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ وہ ایک جن ہے۔ چاروں مل کر نکلتے ہیں اس کتاب کی اصلیت جاننے کے لیے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ ایک ایسے شخص سے بھی بھاگ رہے ہوتے ہیں جو ویسے تو حکومت کا ایک اہم بندہ ہوتا ہے لیکن اصل میں اس کو وہ کتاب خود اپنے لیے حاصل کرنی ہوتی ہے۔ اب میں اس کے بارے میں زیادہ نہیں بتا سکتی، سھدغم کہانی کا پورا پلاٹ ہی آپ کو معلوم ہوجائے گا۔ پھر آپ پڑھیں گے کیا؟ ہوسکتا ہے شاید آپ میں سے کوئی یہ کتاب پڑھنا چآہے۔ بے شک میرے ریویو سے شاید اتنی دلچسپ کتاب نہ لگ رہی ہو۔ لیکن وہ سب چھوڑ کر، یہ بات تو ہے کہ کتاب اتنی بھی بری نہیں تھی۔ پڑھتے دوران میں کہانی کے اندر کافی مگن ہوگئی تھی اور میرا دل ہی نہیں چآہ رہا تھا کہ کہانی کبھی ختم ہو۔ لیکن جیسے ہر چیز کی شروعات ہے، ویسے ہی ہر چیز کم اختتام بھی ہوتا ہے۔

Alif the Unseen, G. Willow Wilson, Fiction, Book Review

کیا میں کہوں گی کہ یہ کتاب پڑھنی چآہیے؟ ہاں، ضرور۔ بس بچے نہ پڑھیں، کیونکہ کچھ بڑوں والی باتیں ہیں جو بچوں کے جاننے والی نہیں ہوتیں۔

کہانی بہتر ہوسکتی تھی؟ بالکل! ویسے تو میں نے خود کھبی کوئی کتاب لکھی نہیں، ارادہ تو ہے، اور شاید میں بہت نخرے کر رہی ہوں۔ لیکن شاید مجھے اس کتاب سے بڑی امیدیں تھیں۔

اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اپنی زندگی میں، میں نے اس طرح کی چیزوں پر کافی تحقیق کی ہے اور معلومات پڑھی اور سنی ہیں۔ کہانی مزید بڑھائي جا سکتی تھی پر اسرار حصے کے حساب سے۔ لیکن ایسا لگ رہا تھا جیسے کہ عام لو ٹرائی اینگل بنا ڈالا ہے اور اس پر کچھ پر اسرار چھینٹے ڈال دیے ہیں ٹیکنالوجی کا ثکڑا لگا کر۔ اور اس چیز کا مجھے افسوس رہا جب کتاب ختم ہوگئی۔ مجھے امید یہ تھی کہ ایڈوینچر پر زیادہ فوکس کیا جاتا اور اس کی تاریخ معلوم کرنے کی کوشش دکھائی جاتی۔ یا کم از کم اتنا ہی کردیتے کہ جیسے الف لیلی کی نقل کرنے کی کوشش ہی کی تھی تو مزید کچھ مختصر کہانیاں ڈال دیتے۔ اب جب کہ مختصر کہانیوں کی بات چل رہی ہے، تو مجھے کتاب میں ایک بات کافی نوٹ ہوئی، وہ یہ کہ اس میں کئی کہانیاں ایسی تھیں جو میں اپنے بچپن سے ہی جانتی ہوں، جیسے وکرم ویٹالا۔ اور میرے ذہن میں یہ آ رہا تھا کہ کیا یہ کاپی رائٹ کے حوالے سے ٹھیک بھی ہے یا نہیں؟ کیونکہ کہانی کو سیدھا سیدھا تقریبا شارٹ کٹ میں کافی پیسٹ کیا گيا تھا۔ مجھے خود اتنی سمجھ نہیں ابھی اس حوالے سے کہ کاپی رائٹ کا اصل کیا معاملہ ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی کبھی تحقیق کر کے اس بارے میں بھی ضرور لکھوں گی۔ اگر آپ کو اس بارے میں زیادہ معلومات حاصل ہیں تو آپ کامنٹس میں ہم سب کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔ ہمیشہ کچھ نہ کچھ سیکھنا اچھی بات ہوتی ہے۔ اور کچھ سیکھا نہیں تو کیا کیا! اگر آپ کے علم میں کوئی ایسی کتاب ہے جو پراسراریت پر مبنی ہو ایک اچھی کہانی کے ساتھ، زیانہ لو شو ڈرامہ شرامہ نہ ہو، تو براہ مہربانی کامنٹس میں اس کتاب کا نام اور ہو سکے تو مصنف کا نام بھی ضرور بتائیے گا۔ یہ بے شک انگریزی میں ہو یا اردو میں، میں دونوں ہی پڑھ لیتی ہوں۔ مجھے کتابوں میں مہم جوئی، تصوراتی، خوفناک و پراسرار وغیرہ پر مبنی کہانیاں پسند ہیں۔ اگر اس سب کا مجموعہ ہو تو کیا ہی بات ہے!

Alif the Unseen, G. Willow Wilson, Fiction, Book Review in Urdu

Previous KAAM, KAAM, KAAM AUR BAS KAAM, BUT WITH A SUPPORT SYSTEM
Next Alif the Unseen - Book Review

0 Comments

No Comments Yet!

You can be first to comment this post!

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.